فونٹ سائز






ال ہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری
عراق کے نائب وزیر اعظم طارق ال ہاشمی پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں
20 Aralık 2011 Salı - 17:22
عراق میں امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد سیاسی گروپوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے ۔
عراق کے نائب وزیر اعظم طارق ال ہاشمی پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ وزارتِ داخلہ کیطرف سے جاری اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ان کی گرفتاری کا حکم اس سے قبل گرفتار کیے جانے والے ان کے محافظوں کے بیانات کے نتیجے میں دیا گیا ہے ۔
ان کے محافظوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ہاشمی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے بعض عراقی حکام کو قتل کیا تھا ۔
صدر جلال طلابانی کیساتھ مذاکرات کی غرض سے عربل میں موجود ہاشمی پر بیرون ملک جانے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
دعوے کیمطابق عراقی قومی مجلس میں 28 نومبر کو ہونے والے بم حملے میں طارق ال ہاشمی کے محافظوں کا ہاتھ تھا مگر ہاشمی نے ان محافظوں کو پولیس کے حوالے نہیں کیا تھا ۔
حکومت میں سنّیوں کی نمائیندگی کرنے وال ہاشمی کے داماد سمیت چار محافظوں کو آواخر ہفتہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔
دریں اثناء وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک دوسرے سنی نائب وزیر اعظم صالح ال مطلق سے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ہاشمی اس مطلق کی پارٹی ال عراقیے نے حفاظتی قوتوں پر سنّیوں کے خلاف گرفتاری کی مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے سات وزراء کوپارلیمنٹ سے واپس لینے اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔
دریں اثناء نائب وزیر اعظم طارق ال ہاشمی کی رہائش گاہ پر سخت پہرہ لگا دیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کی صورت میں ملک میں
ہنگامے شروع ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
TRT Haber
عراق کے نائب وزیر اعظم طارق ال ہاشمی پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں ۔ وزارتِ داخلہ کیطرف سے جاری اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ان کی گرفتاری کا حکم اس سے قبل گرفتار کیے جانے والے ان کے محافظوں کے بیانات کے نتیجے میں دیا گیا ہے ۔
ان کے محافظوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ہاشمی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے بعض عراقی حکام کو قتل کیا تھا ۔
صدر جلال طلابانی کیساتھ مذاکرات کی غرض سے عربل میں موجود ہاشمی پر بیرون ملک جانے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
دعوے کیمطابق عراقی قومی مجلس میں 28 نومبر کو ہونے والے بم حملے میں طارق ال ہاشمی کے محافظوں کا ہاتھ تھا مگر ہاشمی نے ان محافظوں کو پولیس کے حوالے نہیں کیا تھا ۔
حکومت میں سنّیوں کی نمائیندگی کرنے وال ہاشمی کے داماد سمیت چار محافظوں کو آواخر ہفتہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔
دریں اثناء وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک دوسرے سنی نائب وزیر اعظم صالح ال مطلق سے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ہاشمی اس مطلق کی پارٹی ال عراقیے نے حفاظتی قوتوں پر سنّیوں کے خلاف گرفتاری کی مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے سات وزراء کوپارلیمنٹ سے واپس لینے اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔
دریں اثناء نائب وزیر اعظم طارق ال ہاشمی کی رہائش گاہ پر سخت پہرہ لگا دیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری کی صورت میں ملک میں
ہنگامے شروع ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
TRT Haber


























Iraq
RSS/XML
Sitene Ekle
Facebook
Twitter'da Paylaş
Mobil Versiyon